پہلا سپارہ قرآنِ مجید کا آغاز ہے اور یہ
بنیادی طور پر انسان کی ہدایت، ایمان، عبادت اور زندگی کے اصولوں کو بیان کرتا ہے۔
اس سپارے کی ابتدا سورۂ فاتحہ سے ہوتی ہے جو قرآن کا خلاصہ اور دعا ہے۔ اس میں
بندہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے، اُسے ربّ العالمین، نہایت مہربان اور
انصاف کے دن کا مالک مانتا ہے، اور سیدھے راستے کی ہدایت مانگتا ہے۔ یہ سورت ہمیں
سکھاتی ہے کہ کامیابی صرف اللہ کی عبادت اور اُس کی مدد طلب کرنے میں ہے۔
اس کے بعد سورۂ بقرہ کا آغاز ہوتا ہے۔ شروع میں
قرآن کو ایسی کتاب قرار دیا گیا ہے جس میں کوئی شک نہیں اور جو پرہیزگار لوگوں کے
لیے ہدایت ہے۔ مومنوں کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز
قائم کرتے ہیں، اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے
ہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہے جو کفر اختیار کرتے ہیں اور وہ لوگ جو زبان سے ایمان
کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دل سے سچے نہیں ہوتے۔ اس طرح ایمان اور نفاق کا فرق واضح
کیا گیا ہے۔
پہلے سپارے میں حضرت آدمؑ کا واقعہ بھی بیان
ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو زمین پر اپنا نائب بنایا، فرشتوں کو سجدہ کا حکم
دیا اور علم کی فضیلت ظاہر کی۔ ابلیس نے تکبر کیا اور نافرمان ہوا۔ اس واقعے سے
سبق ملتا ہے کہ تکبر انسان کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جبکہ علم اور اطاعت کامیابی
کا راستہ ہیں۔
اس سپارے میں بنی اسرائیل کو بھی یاد دلایا گیا
ہے کہ اللہ نے اُن پر کتنی نعمتیں کیں، انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دی، سمندر کو
پھاڑا، من و سلویٰ عطا کیا، مگر انہوں نے بار بار نافرمانی کی۔ اس بیان کا مقصد
مسلمانوں کو نصیحت کرنا ہے کہ وہ شکر گزار بنیں اور اللہ کے احکام سے روگردانی نہ
کریں۔
عبادت کے احکام میں نماز اور صبر کی تاکید کی
گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ کعبہ کو قبلہ
بنانے کا ذکر بھی اسی حصے میں آتا ہے، جس سے امتِ مسلمہ کی الگ شناخت قائم ہوئی۔
حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی دعا کا ذکر ہے کہ اللہ ان کی اولاد میں ایک
رسول بھیجے جو کتاب اور حکمت سکھائے۔
مختصر یہ کہ پہلا سپارہ ایمان کی بنیادیں مضبوط
کرتا ہے، انسان کو اپنے رب کی پہچان کراتا ہے، عبادت، صبر اور شکر کی تعلیم دیتا
ہے، اور سابقہ قوموں کے حالات سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ سپارہ ہمیں
بتاتا ہے کہ کامیابی صرف اللہ کی اطاعت، سچائی، اور سیدھے راستے پر چلنے میں ہے۔