سپارہ 2 کا خلاصہ



یہ سپارہ قرآن مجید کی سورۃ البقرہ کے ایک اہم حصے پر مشتمل ہے۔ اس سپارے میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر بنی اسرائیل کے واقعات، مسلمانوں کو دی گئی ہدایات، اور ایمان و عمل کے بنیادی اصولوں کو بیان کیا ہے۔

اس سپارے کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انہیں دوسری قوموں پر فضیلت دی، انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دی، ان کے لیے سمندر کو پھاڑا، آسمان سے من و سلویٰ اتارا، اور ان کی ہر طرح مدد کی۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے بار بار نافرمانی کی، اللہ کے احکام سے منہ موڑا اور ناشکری کی۔

پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جب ان کی قوم نے مختلف بہانے بنائے اور اللہ کے حکم ماننے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔ خاص طور پر گائے ذبح کرنے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس میں بنی اسرائیل نے سادہ حکم کو مشکل بنا لیا۔

اس سپارے میں مسلمانوں کو صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ نماز اور صبر مومن کی بڑی طاقت ہیں۔

قبلہ کی تبدیلی کا اہم واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ شروع میں مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، لیکن بعد میں اللہ کے حکم سے قبلہ کو خانہ کعبہ کی طرف تبدیل کر دیا گیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعے خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور ان کی دعا کا بیان ہے۔

اس سپارے میں قصاص اور روزے کے احکام بھی بیان کیے گئے ہیں تاکہ معاشرے میں انصاف اور تقویٰ پیدا ہو۔

آخر میں دعا کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی دعا سنتا ہے۔

یہ سپارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کامیابی صرف اللہ کی اطاعت، ایمان، صبر اور نیک اعمال میں ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post